0335 1115330  ·  submedic@gmail.com آن لائن مشورہ دستیاب ہے

والو سرجری · لاہور

دل کے والو کی سرجری — مرمت اور تبدیلی، لاہور

دل کے والو کی سرجری کی آسان رہنمائی — مائٹرل، ایورٹک اور ٹرائی کسپڈ والو کی مرمت یا تبدیلی۔ از ڈاکٹر احمد زین سبحانی، ایف سی پی ایس کارڈیک سرجری، اسسٹنٹ پروفیسر، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی۔

والو کی سرجری کب ضروری ہوتی ہے؟

دل میں چار والو ہوتے ہیں جو خون کو ایک ہی سمت میں بہنے دیتے ہیں۔ جب کوئی والو تنگ ہو جائے یا اُس میں رساؤ (لیک) ہو جائے تو دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، اور وقت کے ساتھ سانس پھولنا، تھکن، سوجن اور دل کے پٹھوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ جب والو کی خرابی شدید ہو جائے یا دل کی کارکردگی متاثر ہونے لگے تو سرجری کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں ریومیٹک ہارٹ ڈیزیز (گٹھیا سے دل کی بیماری) والو کی خرابی کی عام وجہ ہے، خاص طور پر مائٹرل والو کی، جو اکثر کم عمر مریضوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

مرمت یا تبدیلی؟

جہاں ممکن ہو، اپنے والو کی مرمت کو ترجیح دی جاتی ہے — اِس سے قدرتی ٹشو محفوظ رہتا ہے اور تاحیات خون پتلا کرنے والی دوا سے بھی بچت ہو سکتی ہے۔ جب والو اتنا خراب ہو کہ مرمت ممکن نہ ہو تو اُسے بدل دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب والو کی نوعیت، خرابی، اور آپ کی عمر و طرزِ زندگی دیکھ کر مناسب فیصلہ کرتے ہیں۔

والو کی مرمت

رِستے ہوئے مائٹرل والو میں عام۔ والو کو دوبارہ شکل دے کر اور اکثر ایک سہارا دینے والی رِنگ لگا کر مضبوط کیا جاتا ہے تاکہ وہ دوبارہ ٹھیک سے بند ہو۔

والو کی تبدیلی

خراب والو نکال کر دو میں سے ایک قسم کا نیا والو لگایا جاتا ہے:

  • ٹشو (حیاتیاتی) والو — جانوروں کے ٹشو سے بنا؛ عموماً تاحیات خون پتلا کرنے والی دوا کی ضرورت نہیں، مگر وقت کے ساتھ گھِس سکتا ہے اور بعد میں تبدیلی درکار ہو سکتی ہے۔
  • مکینیکل والو — بہت مضبوط اور دیرپا، مگر تاحیات خون پتلا کرنے والی دوا اور باقاعدہ نگرانی ضروری ہوتی ہے۔
والو کا انتخاب مشترکہ فیصلہ ہے۔ کم عمر مریض جو دوبارہ آپریشن سے بچنا چاہے، مکینیکل والو کی طرف مائل ہو سکتا ہے؛ بزرگ مریض یا جو دوا باقاعدگی سے نہ لے سکے، اُس کے لیے ٹشو والو بہتر ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب آپ اور آپ کے گھر والوں کے ساتھ اِن باتوں پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔

آپریشن اور بحالی

والو کی سرجری اوپن ہارٹ سرجری ہے، جو عموماً سینے کے کٹ کے ذریعے ہارٹ لنگ مشین کی مدد سے کی جاتی ہے۔ ہسپتال میں عموماً 5 تا 8 دن قیام ہوتا ہے (آئی سی یو سمیت)، اور مکمل بحالی 6 تا 8 ہفتوں میں۔

مکینیکل والو یا وارفرین لینے والے مریضوں کو آئی این آر کی نگرانی اور دوا کے محفوظ استعمال کی واضح رہنمائی دی جاتی ہے، جو اردو/انگریزی ری ہیب گائیڈ میں شامل ہے۔

خطرات

والو کی سرجری آزمودہ اور عموماً بہت کامیاب ہوتی ہے۔ ہر دل کے آپریشن کی طرح خون بہنے، انفیکشن، بے ترتیب دھڑکن اور شاذ فالج کا خطرہ ہوتا ہے۔ طویل مدت میں بدلے گئے والو کا فالو اَپ ضروری ہے — ٹشو والو کے گھِسنے کے لیے، اور مکینیکل والو کی دوا کی نگرانی کے لیے۔ آپ کا انفرادی خطرہ آپریشن سے پہلے بتایا جاتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

مجھے ٹشو والو لینا چاہیے یا مکینیکل؟

یہ آپ کی عمر، طرزِ زندگی اور اِس بات پر منحصر ہے کہ آپ خون پتلا کرنے والی دوا باقاعدگی سے لے سکتے ہیں یا نہیں۔ مکینیکل والو زیادہ دیرپا ہے مگر تاحیات وارفرین اور آئی این آر نگرانی درکار ہے؛ ٹشو والو میں عموماً دوا کی ضرورت نہیں مگر بعد میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اِس فیصلے میں آپ کی مدد کرتے ہیں۔

کیا خراب والو ہمیشہ ٹھیک ہو سکتا ہے؟

ہمیشہ نہیں۔ جہاں ممکن ہو مرمت کو ترجیح دی جاتی ہے، خاص طور پر رِستے مائٹرل والو میں، مگر بہت خراب یا کیلشیم زدہ والو کو عموماً بدلنا پڑتا ہے۔ فیصلہ والو کے معائنے کے بعد ہوتا ہے۔

کیا والو کی سرجری پی آئی سی میں ہوتی ہے؟

جی ہاں۔ والو کی مرمت اور تبدیلی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مکمل سہولتوں کے ساتھ کی جاتی ہے۔ وہاں، نجی طور پر، اور آن لائن مشورہ دستیاب ہے۔

واٹس ایپ پر بک کریں